آؤ جمہوریت سیکھیں

سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سویڈن کی سب سے بڑی اور سب سے پرانی سیاسی پارٹی ہے جس نے کم و بیش تیس سال تک سویڈن میں حکومت کی ہے اور سویڈن کو ایک سوشل ویلفئیر ریاست بنانے میں اھم کردار ادا کیا ہے مارچ  دو ہزار گیارہ میں اس پارٹی کی چیئرمین نے  استعفیٰ دے دیا اور ہوکون جوھولٹ نامی پارٹی کے لیڈر نے پچیس مارچ کو اگلے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھال لی – اکتوبر دو ہزار گیارہ میں ایک اخبار نے خبر لگائی کہ ہوکون جوھولٹ جوکہ پارلیمنٹ کا رکن بھی تھا اس نے پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر جو الاؤنس لیا اس میں خود کو اکیلا یا سنگل ظاہر کیا جبکہ اسکی گرل فرینڈ بھی اسکے ساتھ رہتی تھی اس لیے اسکا الاؤنس کم ہونا چاہئیے تھا – اس خبر سے مختلف فورمز پے بحث چھڑ گئی  ہوکون جوھولٹ نے سب سے پہلے جو اضافی رقم لی تھی وو واپس سرکاری خزانے میں جمع کروا دی اور وضاحت کی کہ اسے الاؤنس لینے کے قوائد کا علم نہیں تھا اس لیے یہ یہ اضافی الاؤنس اسکے اکاؤنٹ میں آتا رہا – اسکی اس وضاحت کے بعد سرکاری جرائم کے تحقیقاتی ادارے نے اپنی تفشیش کی اور رپورٹ دی کہ سرکاری الاؤنس کے طریقہ کار میں  اس طرح کی صورت حال کے بارے میں کوئی ہدایت موجود نہیں اور اس بنا پر ہوکون پر کوئی جرم نہیں بنتا – رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پارٹی کے سات اور لیڈروں نے بیانات دے دئیے کہ ہوکون جوھولٹ مستعفی ہو جاۓ – ہوکون صاحب نے انکار کردیا – بحث چل پڑی اخبار ٹی وی اور سوشل میڈیا میں ہوکون جوھولٹ کے حق اور خلاف ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور آخر اکیس جنوری دو ہزار بارہ کو ہوکون صاحب نے پارٹی کی چیئرمین شپ سے استفیٰ دے دیا –

اس وقت پاکستان میں اپوزیشن کی جماعتوں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی نے دارالحکومت میں دھرنا دیا ہوا ہے اور آج پارلیمنٹ کا وہ مبینہ طور پر کئی دنوں تک چلنے والا اجلاس شروع ہوگیا جس میں تمام دوسری جماعتوں نے جمہوریت اور آئین کی حفاظت اور حکومتی جماعت کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے کے عہد کیے -جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں سن سنتالیس سے تھوڑا پہلے سے لیکر قدیم تاریخ تک جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی یہاں سے انگریز جاتے ہوۓ ہمہیں جمہوریت کا تحفہ دے گۓ پھر جنھیں موقع ملا انہوں نے کچھ الفاظ ڈھونڈھ لیے اب ہر طرف جمہوریت کی تکرار ہے انہوں نے آہستہ آہستہ ایک طبقے کو جنم دیا جو پارلیمنٹرین ہے انکا ایک استحقاق ہوتا ہے اگر انہیں آپ صاف بات منہ پے کر دو تو وہ مجروح ہوتا ہے یا آپکی بات غیر پارلیمانی ہوتی ہے انہیں خصوصی مراعات کا حق ہے کیونکہ یہ عوام کی طاقت سے اس خاص طبقے میں شامل ہوگۓ ہیں اس لیے ان سے آپ کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے ایسا کرنا آئین -کے خلاف ہے انکا کوئی جرم قبل گرفت نہیں کیونکہ انہیں استثنیٰ حاصل ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے آپ یہ پیرا دوبارہ پڑھیں اور اس لفاظی پے غور کریں یہ وہ جمہوریت ہے جس کی حفاظت بہت ضروری ہے

عوام کا ایک حصہ ان دھرنوں کو غیر قانونی اور دہشت گردی کہہ رہا ہے اسکی وجہ جمہوریت سے ناواقفیت ہے جس نے ووٹ دیا ہے اسے حق ہے وہ مطالبہ کرے آپ اسکے مطالبے پر سوال کرسکتے ہو اسکے حق پر نہیں – دھرنے میں ایک شخص ہوتا یا سو یا ہزار یہ بحث فضول ہے  یہی جمہوریت ہے ہم نے ووٹ دیا ہم مطمئن نہیں آپ تشریف لے جائیں  آج پارلیمنٹ میں کی جانے والی ہر تقریر اس جاہلیت کی تصویر تھی جس میں عوام کی طاقت سے اس پارلیمنٹ میں آے ہوۓ لوگ اسی عوام کو ریاستی طاقت سے سیدھا کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے  یہ جمہوریت کی کسی بھی قسم میں نہیں لکھا کہ آپکو ایک بار ووٹ مل جاۓ تو ووٹر پھر اگلی باری تک سوال نہیں کر سکتا

Advertisements